جان فشاں

قسم کلام: صفت ذاتی

معنی

١ - جان چھڑکنے والا؛ جان ہار، محنتی جاں نثار؛ مضطرب، بے چین۔  سب جاں فشاں سوار تھے راہ ثواب میں پیدل مگر تھے ابن مظاہر رکاب میں      ( ١٨٧٤ء، انیس، مراثی، ١٧٨:١ )

اشتقاق

فارسی زبان میں اسم 'جان' کے ساتھ مصدر 'فشاندن' سے مشتق صیغۂ امر 'فشاں' بطور لاحقۂ فاعلی لگنے سے 'جان فشاں' مرکب توصیفی بنا۔ ١٦٦٩ء میں "محی الدین نامہ" میں مستعمل ملتا ہے۔

جنس: مذکر